صالح اور مصلح میں فرق / کتاب رہنما مصلحین

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صالح اور مصلح میں فرق
صالح
صالح سے مراد نیک، پرہیزگار، پاک دامن، پارسا، نیکوکار شخص ہے
مصلح
مصلح جو دوسرے لوگوں کی صلاح حال کرنے والا ، درست کرنے والا ، برائیاں دور کرنے والا ، نیکی کی طرف لانے والا ، نقص دور کرنے والا ، عیوب دور کرنے والی شخصیت ہو
اکثر لوگ صالحین، نیک اور پرہیز گار لوگ کے ساتھ محبت کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس مصلحين، اصلاح کرنے والا / درست کرنے والا / نیکی کی طرف لانے والا / عیوب دور کرنے والا کو ناپسند کرتے ہیں اور انکے ساتھ دشمنی کرتے ہیں.
اہل مکہ بعثت سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے اس لئے کہ وہ صالح تھے. لیکن جب اللہ تعالیٰ نے نبوت عطاء فرمایا اور مصلح بن گئے تو اہل مکہ دشمن بن گئے اور جادوگر، جھوٹا اور مجنون کہنے لگے.
کیونکہ مصلح انکے خواہشات کے چٹانوں کے ساتھ ٹکراتا ہے.
اس وجہ سے اہل علم فرماتے ہیں کہ ایک مصلح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہزار صالحین سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ ایک مصلح کے ذریعے اللہ تعالیٰ پوری امت کی حفاظت فرماتے ہے اور صالح صرف اپنی ذات کی حفاظت پر کفایت کرتا ہے.
رب العالمين کا فرمان عالیشان ہے

وَمَا كَا نَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ
“تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں”
And your Lord (Allah) is not such as to destroy townships without reason, while their people are righteous.
( Hud 11: Verse 117)
اللہ تعالٰی کاصاف اور واضح فرمان مبارک ہے اللہ تعالیٰ کسی بستی والوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتے ہے جب تک اس بستی میں مصلحین موجود ہو. اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صالحین نہیں فرمایا کیونکہ صالحین کی موجودگی سے عذاب نہیں ٹلتا ہے بلکہ مصلحین کی موجودگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب کو ٹال دیتا ہے.
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مصلحین میں سے بنا دے اور جو عالِم دِین/ ہادی / رہنما  ولی / بزرگ / پیر / مرشد / دین کا علم رکھنے والا، مسائل شریعہ سے باخبر اور صحیح العقیدہ ہو جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عیسائیوں نے بہتر فرقے بنالئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی بہتر فرقے ناری ہوں گے اور صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا اور وہ جماعت جو میری سنت پر اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل کرے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ سب فرقے راہ حق پر ہیں بلکہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کی شرح میں ناجی فرقے سے مراد اہلسنت و الجماعت لئے ہیں۔
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا.
(تہتر فرقوں میں) فرقہ ناجیہ (نجات پانے والے) یہی (اہل سنت) بزرگوار ہیں۔ یہی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے طریق پر ہیں۔ اور تمام اولیاء اللّٰہ اس گروہ میں ہیں۔
( مکتوب 266 دفتر اول )
واضح ہوا کہ اولیا اللہ یا ان سے نسبت رکھنے والے عالم دین سب مصلحین میں شامل ہیں
اللہ تعالٰی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور رحمت و سلام لا تعداد سردار انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم، آپ کی اہل بیت اور صحابہ کرام پر نازل ہو جس نے دعا کو تقدیر کے بدلنے ذریعہ بنایا
اللہ حی قیوم سے میری دعا ہے فقیر حکیم محمد اعظم سہیل نقشبندی چشتی قادری کی اس کتاب ( رہنما مصلحین ) کو میرے، میرے والدین، تمام مومن مرد و عورتوں کے لیئے آخرت میں صدقہ مقبولہ بنائے کیونکہ ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے :
تحقیق  اللہ اور اُس کے فرشتے اور سب زمین والے اور سب آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹى اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ مچھلى یہ سب درود بھیجتے ہیں علم سکھانے والے پر جو لوگوں کو بھلائى سکھاتا ہے۔
( ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادة، ۴/  ۳۱۱، حدیث : ۲۶۹۰،فیضان علم و علما)
اللہ تعالٰی نے اپنی وَحدانِیَّت کی گواہی دی اور اس گواہی کے نور سے انبیاء علیہم السلام نے علم حاصل کیا
(شمس المعارف صفحہ نمبر 1 )
اللہ تعالٰی میرے اور آپ کے لیے ہدایت واضح کر دے، اللہ تعالٰی ہمیں اور تمھیں انوار تحقیق عطا فرمائے۔ یہ کتاب ( رہنما مصلحین ) عارفوں کا راستہ، صدیقوں اور صالحین و مصلحین کے طریقہ پر مبنی ہے جس کے ذریعے رب العالمين کے حضور رسائی ہو گی ان شاءاللہ
حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث مبارک ہے
عالم کی مجلس میں حاضر ہونا ہزار رکعت نماز ، ہزار بیماروں کی عبادت اور ہزار جنازوں میں حاضر ہونے سے بہتر ہے۔
کسی نے عرض کیا۔
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرات قرآن ؟
یعنی کیا علم کی مجلس میں حاضر ہونا قرات قرآن سے بھی افضل ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
آیا(کیا) قرآن بے(بغیر) علم کے نفع بخشتا ہے؟
یعنی فائدہ قرآن کا بغیر علم کے حاصل نہیں ہوتا۔
(فیضانِ علم و علما، صفحہ ۱۸)
کتاب کے بقیہ بھی آہستہ آہستہ پوسٹ کیا جائے گے ان شاءاللہ لہذا انہیں پڑھنے اور دوسرے تک پہنچنے کے لیے پیج کو لائیک یا ویب سائٹ کو سبسکرائب کریں
وَمَا عَلَيْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
“اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے”
(Ya-Sin 36: Verse 17)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *