انجیر anjeer figs

figs/انجیر /anjeer benefits in urdu

انجیر / figs
انجیر ایک عمدہ میوہ، پھل ہے جو گولر کے مشابہ ہوتا ہے جس میں فضلہ نہیں ہوتا ہے اس لیے طویل بیماری کے بعد صحت یابی کے دوران انجیر کھانا بہت زیادہ مفید ہے پاکستان یعنی ہندوستان میں یہ درخت نہیں پایاجاتا تھا لیکن بعض سنسکرت کتابوں میں اس کا نام “کاکودمبکاریکا ” لکھا ہے لیکن یہاں تک میرا علم ہے یہ درست نہیں ہے انجیر کا اصل خطہ شام فلسطین اور مصر رہا ہے ان ممالک میں جنگلی بھی ملتا ہے اور کاشت بھی کیا جاتا ہے اس کی اونچائی تیس فٹ ہوتی ہے سال میں دو مرتبہ پھل لگتا ہے
اگر کسی علاقے میں انجیر کا پودا لگانا ہو تو اس کیڑے کو درخت تک پہنچانا ہو گا ورنہ پھل نہیں ہو گا کیونکہ انجیر میں ایک خاص قسم کے کیڑے fig wasp کہلاتے ہیں وہی ان درختوں میں Fertilization کے ذمہ دار ہوتے ہیں
انجیر کا پودا ایک سال میں دوبار پھل دیتا ہے ۔ پہلے مئی کے وسط میں اور جون کے پہلے دنوں جبکہ دوسرا پھل مارچ کے وسط میں اور اپر یل کے شروع میں ، یہ گولر کی طرح گول گول نرم گولہ نما گچھوں میں لگتا ہے ۔کچا پھل سبز اور پکنے میں شیر یں اور لذیذ ہوتا ہے۔انجیر کا پھل کچی حالت میں سخت حالت میں پک کرنرم ہوجاتا ہے ۔

انجیر کے دوسری زبانوں میں نام
اردو >انجیر
ہندی > انجیر
پنجابی>انجیر
بنگالی>انجیر
مرہٹی> انجیر
انگریزی> Fig
فرانسیسی >Figue
روسی>Figue
جرمن >Feigs
لاطینی >Ficus Carica
اطالوی> Fico
عبرانی >Teenah
یونانی> Suiko
ہسپانوی >Higo
کرنانکی> نیڈنیڈ
فا رسی>جمیر
قرآ نی نام> تین طبس
نباتاتی نام> Gacus carica
انجیر کی فیملی
یہ بڑ فیملی کا یعنی گولرجا تی کا پودا ہے
انجیر کا مزاج
عمدہ قسم کی انجیر پختہ سفید چھلکے والی ہوتی ہے اس کا مزاج گرم اور تر ہے اور بعض اطباء کا قول ہے کہ انجیر خشک مزاج بھی رکھتی ہے
انجیر کے افعال
ملین شکم 》وہ دوا یا غذا جس سے قبض دور ہو اور پاخانہ بآسانی آ جائے
منضج 》خلط یا مادوں کو پکا کر قابل اخراج بنانے آسان زبان میں ہم کہہ سکتے ہیں جلاب لینے سے پہلے خلط کو معدے میں جمع کرنے والی دوا
معرق 》وہ چیز یا دوا جو اپنی قوت تاثیر سے جلد کے مسامات سے پسینہ جاری کرتی ہے
منفث بلغم 》وہ دوا جو پھیپھڑوں سے منہ کی راہ بلغم کو دفع کرے
مدر بول》 وہ دوا جو مواد یا رطوبات کو پیشاب وغیرہ کی راہ خارج کرے

سیب کے فائدے/ سیب / apple

انجیر کے فوائد
انجیر طبیعت کو نرم کرتا ہے
انجیر بدن کو موٹا کرتی ہے
انجیر کے خشک پھلوں میں پچاس فیصد سے زائد شکر ہوتی ہے اس کے علاوہ تھوڑی مقدار میں citric acid, malic acid, acetic acid, بھی ملتے ہیں
سب سے اہم جز Enzyme ہے جس کو Ficin کہتے ہے
انجیر کے اسی جز کی وجہ سے یہ ملین ہے اور معدہ کے امراض میں فائدہ بخش ہے
انجیر گردوں کو صاف کرتا ہے
انجیر ریگ مثانہ یعنی مثانہ کی پتھری کو نکالتا ہے
انجیر کے اوپر والے جز دیکھے تو یہ جسم پر پھوڑے پھنسی کو فائدہ دے گا ان شاءاللہ
انجیر حلق کی خشونت کودورکرتا ہے
انجیر معرق ہو نے کی وجہ سے فضلا ت کو جلد کی طرف خارج کرتاہے اس لئے چیچک ،خسرہ ،موتی ، جھرہ کےدانے جلد پر یعنی با ہرنکالتا ہے
انجیر مغزاخروٹ کے ہمراہ کھاناتقویت باہ کیلئے بہتر بیان کیا جا تاہے
انجیر کو پانی میں جوش دے کرغرغرہ کےطورپرخناق کو مفید ہے
انجیر بطورضماد خنا زیری گلٹیوں پر لگا نا مفید ہے
انجیر امراض جلدیہ چھیپ ،برص اور کلف میں ضماداًمفید ہے۔
نسیان یعنی بھول جانا میں انجیر کے ساتھ بادام استعمال کرنا مؤثر ہے
انجیر طب نبوی
وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
وَالتِّيْنِ کا معنی ہے انجیر علماء نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد شام اور فلسطین کے وہ مقدس مقامات ہے جہاں پر ان کے باغات ہے اور بہت سے انبیاء وہاں پر پیدا ہوے جبکہ بعد علماء نے دمشق کے شہر کا نام کہا ہے اور موجودہ زمانے کے مولانا یوسف نے اسے مہاتما گوتم بدھ کی طرف منسوب کیا میں فقراء کا قائل ہو تو فقراء کی نظر میں انجیر سے مراد شجرہ روح قدسیہ ہے
انجیر کھانے کے فائدے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں انجیر بطور ہدیہ پیش کی گئی خود تناول فرمائی اور صحابہ اکرام کو بھی کھانے کا کہا اور فرمایا
جنت سے کوئی پھل اترا ہے تو وہ انجیر ہی ہو سکتا ہے کیونکہ جنت کے پھلوں میں گٹھلی نہ ہو گی اسے کھاؤ کیونکہ یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے اور نقرس کے لیے فائدہ مند ہے
حدیث مبارکہ کے مطابق بواسیر کا قاطع اور نقرس کو نافع ہے
مشہور مفکر افلاطون کو انجیر اتنی پسند تھے کہ اس کا نام philosokos پڑگیا جس کے معنی ہے انجیر کا عاشق
کیونکہ Philo کے معنی ہے پسندیدگی
اور Sukos یونانی زبان میں انجیر کو کہتے ہیں
نوٹ،
میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ficus کی جنس میں بہت پودے انگریزی نام میں انجیر figs کہلاتے ہیں لیکن اصلی انجیر fig ہی ہے
مہاتما بدھ نے جس درخت کے نیچے بیٹھ کر نروان حاصل کیا تھا وہ پیپل کا درخت تھا یعنی، ficus religiosa اور اس کو جناب عبداللہ یوسف علی نے، ficus indica لکھا جو نباتاتی اعتبار سے صیحح نہیں ہے
فقیر حکیم محمد سہیل نقشبندی
(ماہر امراض معدہ و جنسی امراض)
Call & WhatsApp.03456752811

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *