anjeer benefits | fig

انجیر خشک و اسلامی تاریخ و طب و جدید ریسرچ

وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
وَالتِّيْنِ کا معنی ہے انجیر علماء نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد شام اور فلسطین کے وہ مقدس مقامات ہے جہاں پر ان کے باغات ہے اور بہت سے انبیاء وہاں پر پیدا ہوے جبکہ بعد علماء نے دمشق کے شہر کا نام کہا ہے اور موجودہ زمانے کے مولانا یوسف نے اسے مہاتما گوتم بدھ کی طرف منسوب کیا
میں فقراء کا قائل ہو تو فقراء کی نظر میں انجیر سے مراد شجرہ روح قدسیہ ہے
انجیر کی تاریخ
پاکستان یعنی ہندوستان میں یہ درخت نہیں پایاجاتا تھا لیکن بعض سنسکرت کتابوں میں اس کا نام “کاکودمبکاریکا ”
لکھا ہے لیکن یہاں تک میرا علم ہے یہ درست نہیں ہے
انجیر کا اصل خطہ شام فلسطین اور مصر رہاہے ان ممالک میں جنگلی بھی ملتاہے اور کاشت بھی کیا جاتاہے اس کی اونچائی تیس فٹ ہوتی ہے سال میں دو مرتبہ پھل لگتا ہے
(جدید سائنسی تحقیق )
انجیر میں ایک خاص قسم کے کیڑے fig wasp کہلاتے ہیں وہی ان درختوں میں Fertilization کے ذمہ دار ہوتےہیں
نوٹ.
اگر کسی علاقے میں انجیر کا پودا لگانا ہو تو اس کیڑے کو درخت تک پہنچانا ہو گا ورنہ پھل نہیں ہو گا
طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں انجیر بطور ہدیہ پیش کی گئی خود تناول فرمائی اور صحابہ اکرام کو بھی کھانے کا کہا اور فرمایا
جنت سے کوئی پھل اترا ہے تو وہ انجیر ہی ہو سکتا ہے کیونکہ جنت کے پھلوں میں گٹھلی نہ ہو گی اسے کھاؤ کیونکہ یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے اور نقرس کے لیے فائدہ مند ہے

شناخت اور مزاج
عمدہ قسم کی انجیر پختہ سفید چھلکے والی ہوتی ہے اس کا مزاج گرم اور تر اور اطباء کا قول ہے کہ خشک ہے

سائنٹفکیٹ تحقیق اور فوائد
انجیر ایک عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں ہوتا ہے
اس لیے طویل بیماری کے بعد صحت یابی کے دوران انجیر کھانا بہت زیادہ مفید ہے
یہ طبیعت کو نرم کرتا ہے
بدن کو موٹا کرتی ہے
اس کے خشک پھلوں میں پچاس فیصد سے زائد شکر ہوتی ہے اس کے علاوہ تھوڑی مقدار میں citric acid, malic acid, acetic acid, بھی ملتے ہیں
سب سے اہم جز Enzyme ہے جس کو Ficin کہتے ہے
اسی جز کی وجہ سے یہ ملین ہے اور معدہ کے امراض میں فائدہ بخش
گردوں کو صاف کرتاہے
ریگ و مثانہ کو نکالتا ہے
اگر اوپر والے جز دیکھے تو یہ جسم پر پھوڑے پھنسی کو فائدہ دے گا انشاءاللہ
حدیث مبارکہ کے مطابق بواسیر کا قاطع اور نقرس کو نافع ہے
مشہور مفکر افلاطون کو انجیر اتنی پسند تھے کہ اس کا نام philosokos پڑگیا جس کے معنی ہے انجیر کا عاشق
کیونکہ Philo کے معنی ہے پسندیدگی
اور Sukos یونانی زبان میں انجیر کو کہتے ہیں

نوٹ،
میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ficus کی جنس میں بہت پودے انگریزی نام میں انجیر figs کہلاتے ہیں لیکن اصلی انجیر fig ہی ہے
مہاتما بدھ نے جس درخت کے نیچے بیٹھ کر نروان حاصل کیا تھا وہ پیپل کا درخت تھا یعنی، ficus religiosa اور اس کو جناب عبداللہ یوسف علی نے، ficus indica لکھا جو نباتاتی اعتبار سے صیحح نہیں ہے

فقیر حکیم محمد سہیل نقشبندی
(ماہر امراض معدہ و جنسی امراض)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *