Impotencey

(نامردی یا عنانت یا مردانہ کمزوری )(Sexual Disebilty)

ایلوپیتھک میں اس مرض کے لیے امپوٹین سی (Impotency) کا لفظ مستعمل ہے اس مرض کی سادہ لفظوں میں یہ وضاحت ہے کہ مرد کی اس حالت کا نام ہے جس میں بالغ اور بظاہر تندرست یا صحت مند مرد خاطر خواہ طریقہ پر جنسی فرائض (مباشرت sex) کی انجام دہی نہ کر سکے
اس کی دو قسمیں ہیں
حقیقی نامردی
نفسیاتی نامردی

حقیقی نامردی
حقیقی نامردی عمر کے زیادہ ہونے پر جسم میں جنسی ہارمونز کی کمی سے بوڑھے افراد کو لاحق ہوتی ہے اس کا علاج خاصا مشکل ہے بہر حال حب مقوی باہ + سفوف مغلظ خاص (حکیم سہیل والا کا کچھ عرصہ استعمال اس مرض سے مکمل چھٹکارا دلا دیتا ہے
نفسیاتی نامردی
یہ بالخصوص نوجوان مردوں میں واقع ہوتی ہے اور اس میں متعدد عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں مثلاً مدمقابل سے نفرت یا نا پسندیدگی یا بدصورت یا مرعوب ہو جانا یا حسن کا رعب یا تعلیمی درجات کا رعب یا کسی بڑے خاندان سے ہونا یعنی امیر یا غریب
پریشانی یا تھکاوٹ کی حالت میں بلخصوص بیماری سے صحت یاب ہونے کے فوراً بعد جماع کی کوشش مرد کو بعض اوقات بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے
میڈیا پر آنے والے اشتہارات یا قریبی نالائق دوستوں کی گپ یعنی جھوٹی کہانیاں سے متاثر ہو کر خود کو بیمار تصور کرنا
اس کے علاوہ جنسی کمزوری کی دیگر وجوہ بھی ہوتی ہیں جن کا تذکرہ کرنا لازم ہے
ان میں بلخصوص دماغی و نخاعی امراض، کثرت مباشرت (کثرت مباشرت سے یاد آیا ایک مرتبہ ایک مریض میرے پاس علاج کے لیے آیا تو اپنی کیفیت بتاتے ہوئے مجھے بتانا لگا کہ میں نے جب شادی کی تو روزانہ ایک سال سے اوپر تک ہمبستری میں مبتلا رہے کیونکہ شادی کرنے کے بعد ہم اپنے کام کے سلسلے میں اپنے گھر والوں سے بہت دور جا بسے تھے جب بھی رات کو گھر واپس آتا تو ہم ضرور جماع کرتے جس سے کمزوری کا احساس ہونے لگا اسی طرح مسلسل جلق (مشت زنی) اغلام (مرد کی مرد سے بدفعلی) جریان منی کثرت احتلام بھی نامردی کا موجب بنتا ہے
میرے تجربات کے مطابق مسکرات کا استعمال یعنی افیون کھانا، چرس پینا، کثرت بھنگ یا شراب پینا بلکہ فقیر کے رائے کے مطابق کثرت تمباکو نوشی یا تمباکو خوری بذریعہ پان و نسوار بھی مردانہ قوت کو متاثر کرتی ہے
مجامعت جنسی کی سب سے اہم اور مقدم کڑی دماغی دغدغہ ہے یہی وہ چنگاری ہے جو مشین کے اندر بھڑک کر اس کو محرک کرتی ہے
دماغی دغدغہ دو قسم کا ہوتا ہے
ایک محرک شہوت جس سے تحریک شہوانی پیدا ھوتی ہے
دوسرا دماغی دغدغہ مانع شہوت جس سے تحریک شہوانی کو روکا جا سکتا ہے
ان دونوں وجوہات سے عنانت یعنی نامردی پیدا ہو سکتی ہے
نوٹ
بعض اشخاص شاذ و نادر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے آلات مجامعت مکمل ہوتے ہیں مگر وہ اشتہاے مجامعت کی نعمت عظمی سے خلقی (پیدائشی) طور پر محروم ہوتے ہیں
پہلی وجہ اڈیوس اور کریڑمم میں دماغ نشوونما نہیں کرتا ہے
دوسری وجہ ڈیمشیا اور وحشت اور جنرل پیری لائی سس آف السنین میں جوہر دماغ میں زوال اور ہزال سے شہوانی دغدغہ عنقا ہو جاتا ہے
تیسری وجوہات مراق ،صداع کبیر ،ضعف عصبی (نیورو ستھنیا) مالیخولیاے مراقبہ (ہائپو کانڈرائیسس) کی امراض میں بھی شہوانی دغدغہ ناپید ہو جاتا ہے
چوتھے نمبر پر اورام ،دمامیل،ضربہ،سقطہ،پرانے امراض مثلاً ذیابیطس ،دمہ،سنگرہنئ،جریان، ہیپاٹائٹس وغیرہ میں جنرل انرجی زائل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دماغ اور اعصاب کمزور ہو کر شہوانی دغدغہ ساقط ہو جاتا ہے
پانچویں بات جو بزرگوں نے لکھی ہے کہ ناواقف معالج کی تسکین (سی ڈے ٹیوو) اور ٹھنڈک ادویات کے تسلسل سے تھائی رئیڈ گلینڈ اور پیچوٹری گلینڈ کی اندرونی رطوبت کو نقصان پہنچنے سے دماغی دغدغہ موقوف ہو جاتا ہے
نوٹ
ڈاکٹرز ان کے ایکسڑیکٹ مریض کو استعمال کراتے ہے ان کے بھی مسلسل استعمال سے دماغی دغدغہ ختم ہو جاتا ہے
چھٹی وجہ میں دماغی مشقت کی زیادتی سے پیدا ہونے والی تھکن یعنی دماغی کاموں میں انہماک مثلا میں نے دیکھا ہم گاڑی میں سوار ہوے تو ایک لڑکا میرے قریب بیٹھا اور موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے لگا تو ہم نے دیکھا کہ 150کلو میٹر کے سفر کے دوران اس نے چند لمحوں کے لیے بھی اپنی توجہ دوسری طرف مرکوز نہ کی
ساتویں بات یہ ہے کہ دنیاوی اور نفسانی لزتوں سے جان بوجھ کر دور رہنا مطلب مذہبی رہبانیت و مسلسل روزہ رکھنا
نوٹ.
قوت جماع باطل یعنی خراب یا بالکل ناقص ہو جائے یا کبھی معمولی سا نعوظ ہو بھی جائے تو طبیعت منتشر ہو کر انتشار ختم ہو جائے یا حالت آہستہ آہستہ جماع سے متنفر کی کیفیت میں تبدیل ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں معدہ کمزور ہوجاتا ہے بھوک کم لگتی ہے اور فرد بدہضمی کا شکار ہوجاتا ہے اس مقام پر مریض میں خیزش کم یا بالکل نہیں ہوتی یعنی مباشرت کا ارادہ کرتے ہی یا عورت کے ساتھ ملتے ہی دل کی دھڑکن بڑھنا شروع ہو جاتی ہے اور مباشرت کے بغیر ہی انزال ہو جاتا ہے تو یاد رکھو اکثر علاج بے سود یعنی مستقل طور پر فائدہ نہیں دیتے ہیں یہ فقیر کے روزمرہ تجربات میں دیکھا گیا ہے تو اسی حالت میں علاج کے دوران معدہ کی ادویات جو ساتھ مقوی اعصاب بھی ہو کا استعمال ساتھ میں جاری رکھنا دائمی فائدہ کی علامت ہے

علاج
اجزاء
شنگرف 6گرام
کالی ماتا 6 گرام
پان کےجوس میں کھرل کریں اور سائے میں خشک کریں سات بارعمل دہرائیں
پھر عقرقرحا، بزرالبنج، خولنجاں، لونگ، جائفل، زعفران، عنبر، ہر ایک۲گرام عرق پان میں ۸ گھنٹے کھرل کر کے۵۰۰ملی گرام کی گولیاں بنائیں
طریقہ استعمال
جماع سے ۴ گھنٹہ قبل روٹی دیسی گھی والی کھائیں اور ۳ گھنٹہ بعد گولی
مدت کورس
21 تا 40 دن

نوٹ
جو مریض تیار نہیں کر سکتا یا دوا تیار کرنے میں کس قسم کا مشورہ چاہیے تو پوسٹ پر کمنٹ کر کے پوچھ سکتا ہے انشاءاللہ ہم رہنمائی کرے گے
یا تیار شدہ دوا آرڈر کرنے کے لیے فون نمبر اینڈ واٹس ایپ لنک پر کلک کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *