mahe rajab ki fazilat in urdu / فضیلت ماه رجب

mahe rajab ki fazilat in urdu / فضیلت ماه رجب
بسم ﷲ الرحمن الرحیم
mahe rajab ki dua in urdu / ماہ رجب کی دعا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
کہ جب ماہ رجب کا چاند دیکھو تو پہلے ایک مرتبہ یہ دعاء پڑھو :
اَللّٰھُمَّ بَارِک لَنَا فِی رَجَبَ و شُعبَانَ وَبَلَّغنَا اِلٰی شَھرِ رَمَضَانَ

فضیلت ماه رجب
یوں تو تمام دن رات لمحات سب اللہ کے ہیں مگر نسبت کی وجہ سے کچھ دنوں کو دوسرے دنوں پر کچھ راتوں کو دوسری راتوں پر مہینوں کو دوسرے مہینوں پر فضیلت خود اللہ اور اس کے رسول پاک ﷺنے دی ہے
ماہ رجب المرجب شریف کی بھی بڑی اہمیت و فضلیت ہے یہ اسلامی سال کا ساتواں ماہ مقدس ہے رجب دراصل ترجیب سے مشتق ہے اس کے لغوی معنی ہیں تعظیم کرنا اس کو اصب (سب سے تیز بہائو)بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس مہینے میں توبہ کرنے والوں پر رحمت الہیٰ کا نزول ہو جاتا ہے اور عبادت گزاروں پر انوارات و تجلیات کا فیضان عام ہوتا ہے
رجب کے واقعات
رجب کواصم بہرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس ماہ میں نہ کسی فریادی کی آوازیں سنی جاتی تھیں اور نہ ہتھیاروں کی،
اس ماہ کی پہلی تاریخ کو حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے
اسی ماہ کی چار تاریخ کو جنگ صفین ہوئی
اسی ماہ رجب کی تیرہ تاریخ بروز جمعہ المبارک عام الفیل کے تیسویں سال خانہ کعبہ میں مولائے کائنات سید نا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت ہوئی ،اسی لئے آپ کو مولود کعبہ کہا جاتا ہے ،
اس ماہ کی ستایئسویں شب کو رحمت کونین ﷺ کو معراج کا شرف اعظم بھی حاصل ہوا جس میں آپ نے آسمانوں کی سیر کی جنت دوزخ کا مشاہدہ فرمایا اور بارگاہ الہی میں حاضری دے کر عجز و انکسار کا تحفہ پیش فرمایا اسی رات نماز تحفہ معراج کی صورت میں عطا ہوئی
فضیلت ماه رجب
رجب جنت کی ایک نہر کا نام بھی ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور یہ پاک پانی دودھ اور شہد اس نہر سے وہی پئیے گا جو اس ماہ مبارک کے روزے رکھے گا کیونکہ میرے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے جبکہ رمضان میری امت کا ماہ مقدس ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کر دو ماہ رجب جسم کو شعبان المعظم دل کو،اور رمضان المبارک روح کو پاک کرتا ہے
حدیث مبارکہ میں ہے
رجب کی فضلیت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسا کہ حضور پاک ﷺ کی فضلیت دوسرے انبیاء کرام پر ہے اور رمضان المبارک کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے جیسی اللہ کی فضیلت اس کے بندوں پر ہے
اولیاء کاملین فرماتے ہیں
رجب میں تین حروف ہیں
(ر،ج، ب، )
ر
سے مراد رحمت الہیٰ ،
ج
،سے مراد بندے کا جرم،اور
ب
سے مراد بھلائی و احسان ہے
حضور پاکﷺ نے فرمایا
پانچ راتیں ایسی ہیں کہ ان میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی
رجب کی پہلی رات
نصف شعبان کی رات
جمعہ مبارک کی رات
دونوں عیدوں کی رات
(یعنی وہ رات کہ صبح کو عید ہو )
اللہ تعالیٰ چار راتوں کو بھلائی کی مہر لگاتا ہے
عید قربان کی رات
عید الفطر کی رات
نصف شعبان کی رات
رجب کی پہلی رات
حضور پر نور آقائے دوجہاں ﷺ کا فرمان ذیشان ہے
کہ مجھے جبرئیل امیں نے خبر دی کہ جب ماہ رجب کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو چاند رات کو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ سن لو توبہ کا مہینہ اور ماہ رجب کا چاند نظر آگیا ہے تو اس رجب میں جو ایک روزہ رکھے گا اور اسے پرہیز گاری سے پورا کرے گا تو وہ روزہ دار اور وہ دن اس بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں گے پھر فرمایا کہ جو کوئی مکمل پرہیزگاری کے ساتھ اس ماہ ایک روزہ بھی رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ملے گا
اللہ پاک خود فرماتا ہے
جو ماہ رجب میں میری عبادت کرتا ہے میں اسے تنہا نہیں چھوڑتا
mahe rajab ka wazifa in urdu / اعمال ماہ رجب
ماہ رجب کی پہلی شب نماز عشاء کے بعد دس رکعت نماز پانچ سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ کافرون تین تین مرتبہ اور سورہ اخلاص تین دفعہ پڑھے۔ ان شاءاللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو اللہ پاک قیامت کے دن شہیدوں میں شامل کرے گا اور ہزار درجہ اس کے بلند کرے گا۔

لآ اِلٰہَ اِلآ اللہُ وَحدَہ لاَ شَرِیکَ لَہ لَہُ المُلکُ وَلَہُ الحَمدُ یُحی وَیُمِیتُ وَھُوَ حَیٌ لاَ یَمُوتُ بِیَدہِ الخَیر وَھُوَ عَلٰی کُلِ شَی ءٍ قَدِیرٌ اَللّٰھُمَ لاَ مَانِعَ بِمَآ اَعطَیتَ وَلاَ مُعطِیَ لِمَا سَامَنَعتَ وَلاَ یَنفَعُ ذَالجَدِ مِنکَ الجَدُّ۔

پہلی شب بعد نماز عشاء چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورہء فاتحہ کے سورہ نشرح ایک بار سورہ اخلاص ایک بار سورہ فلق ایک بار سورہ ناس ایک بار پڑھے جب دو رکعت کا سلام پھیرے تو کلمہ توحید تینتیس (33) بار اور درود شریف تینتیس (33) مرتبہ پڑھے۔ پھر دو رکعت کی نیت باندھ کر پہلی دو رکعت کی طرح پڑھے پھر بعد سلام کے کلمہء توحید تینتیس دفعہ دورد شریف تینتیس دفعہ پڑھ کر جو بھی حاجت ہو اللہ پاک سے طلب کرے۔ ان شاءاللہ تعالٰی ہر حاجت قبول ہوگی۔

ماہ رجب کی پہلی تاریخ بعد نماز ظہر دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے سورہ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھنی ہے۔ بعد سلام کے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کرے۔ ان شاءاللہ تعالٰی بارگاہ رب العزت سے اس نماز پڑھنے والے کے تمام گناہ معاف ہو کر مغفرت ہوگی۔

ماہ رجب کی ہر شب جمعہ نماز عشاء دو رکعت نماز پڑھے پہلی رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ بقر کا آخری رکوع امن الرسول سے کافرین ط تک سات مرتبہ پڑھے۔ پھر دو رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ حشر کی آخری آیات ھواللہ الذی تا الحکیم ط سات مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے بارگاہ الٰہی میں جو بھی حاجت ہو طلب کرے ان شاءاللہ تعالٰی جو دعا مانگے قبول ہوگی۔ ہر مراد کے لئے یہ نماز بہت افضل ہے۔

پندرہ رجب کو دس بار سورۃ فاتحہ پڑھے اور اس دوران کسی سے بات چیت نہ کرے تو گویا اس نے روئے زمین کے برابر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سونا خیرات کیا اور جس نے بارہ رجب کو ایک بار سورۃاخلاص پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا
دراصل بزرگان دین فرماتے ہیں
رجب بیج بونے کا شعبان المعظم آبپاشی کا اور رمضان المبارک فصل کاٹنے کا مہینہ ہے
حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے
کہ جو پہلی رجب کو روزہ رکھتا ہے اس سے جہنم کی آگ اتنی دور ہو جاتی ہے جتنا آسمان زمین سے دور ہے اور پھر فرمایا کہ ماہ رجب حرمت والے مہینوں میں سے ایک ماہ ہے اورچھٹے آسمان پر اس ماہ کے تیس دن لکھے ہوئے ہیں اور جو کوئی اس ماہ میں ایک روزہ رضائے الہیٰ اور ثواب کے لئے رکھے تو وہ روزہ اس کے قبر کے عذاب کو کم کر دے گا اور جو کوئی اس ماہ ۱۴ روزے رکھے تو روز قیامت اس کا حساب آسان ہوجائے گااور جو کوئی اس ماہ میں ۱۵ روزے رکھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازے سے چاہے گزر جائے جو رجب کے پورے ماہ میں روزے رکھے گا تو اس بندے کے لئے خدا فرماتا ہے کہ میں اپنے اس بندے سے اس قدر خوش ہوں کہ اس کو عذاب قبر نہیں دوں گا
27 rajab ki ibadat in urdu / ستایئسویں رجب کی عبادت
حضرت علی المرتضی ؓ سے روایت ہے
سرکار مدینہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے ستائیسویں رجب کو روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کے روزوں کا ثواب عطا فرمائے گا یہی وہ مقدس یوم ہے کہ جب پہلی بار آقا ﷺپر وحی نازل ہوئی اور اسی سال اسی رات میرے کریم آقا ﷺ کو اللہ نے معراج کرائی اپنا دیدار کرایا اور اسی رات نماز کا تحفہ امت رسول ﷺ کو خدا نے عطا فرمایا
حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے
کہ جس نے ۲۷ویں رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے یہ روزہ تمام عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا اور اگر وہ اسی سال مر گیا تو درجہ شہادت پائے گا

ماہ رجب کی ہر شب جمعہ نماز عشاء دو رکعت نماز پڑھے پہلی رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ بقر کا آخری رکوع امن الرسول سے کافرین ط تک سات مرتبہ پڑھے۔ پھر دو رکعت میں بعد سورہ فاتحہ کے سورہ حشر کی آخری آیات ھواللہ الذی تا الحکیم ط سات مرتبہ پڑھے۔ بعد سلام کے بارگاہ الٰہی میں جو بھی حاجت ہو طلب کرے ان شاءاللہ تعالٰی جو دعا مانگے قبول ہوگی۔ ہر مراد کے لئے یہ نماز بہت افضل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم رجب کی فیوض وبرکات سے فائدہ اٹھائیں۔
آمین ثمہ آمین صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *