Musht Zani (Masturbation) Ke Nuqsanat or Herbal Ilaaj

Musht Zani (Masturbation) Ke Nuqsanat or Herbal Ilaaj
مشت زنی یا جلق یا ماسڑ بیشن (Masturbation)
یہ غیر طبعی مکروہ فعل ہے جس میں مباشرت کے بغیر عضوتناسل کو ہاتھوں یا رانوں کی رگڑ یا تکیہ کے لحاف یعنی کسی بھی طریقے سے مادہ تولید کو ضائع کیا جاتا ہے اس عمل قبیح کو مشت زنی، استمنا بالید، جلد میرہ و انانیزم وغیرہ ناموں کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اس کا تناسب 99.9 فیصد تک ہے اور اس میں سکولوں،کالجوں کے طلباء کے علاوہ مندر کا پنڈت اور مسجد کا ملا تک شامل ہیں اور جدید ریسرچ کے مطابق گرجوں میں مصروف نن و پادری سب سے زیادہ اس قبیح فعل میں مبتلا ہے
یہاں تک فقیر کا تجربہ ہے معاشرے کی غلط اور کثیر الخرچ رسومات اس کی سب بڑی وجہ ہے جب قابل نوجوان لڑکی و لڑکے کی عمر کے طبعی تقاضے بیدار ہوتے ہیں تو فرد اس سے عہدہ برآ ہونے کے چور راستے ڈھونڈتا ہے چاہے وہ بستر یا باتھ روم کی موجود تنہائی ہو بظاہر اس کا گواہ خدا بزرگ وبرتر کے کوئی نہیں ہوتا اور کچے ذہن کی بچی یا بچہ چھپی لذت کشید کرنے کی عادت بد مشغول رہتا ہے اور وہ طاقتیں جو قدرت نے افزائش نسل کے لیے ودیعت کی ہیں وہ نالی کے گندے پانی میں ضائع کرتا رہتا ہے
والدین کو اپنے بچوں پر شباب شروع ہونے پر نظر رکھنی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو فحش کتب، کیبل اور جدید انٹرنیٹ سے منسلک موبائل فون نہ دینا چاہیے اور ان کو سن بلوغ میں صفائی کا طریقہ بھی احسن طریقے سے بتانا چاہیے کیونکہ بعض اوقات غلفہ کی طوالت و تنگی یا حشفہ پر میل کچیل پیدا ہونے والی خارش کے نتیجہ میں یا بالوں کی صفائی کے دوران دغدغہ پیدا ہو کر سن بلوغ سے پہلے ہی اس بری عادت میں مبتلا کر دیتا ہے
خدا کے لیے اس قبیح فعل سے بچو نہیں تو ساری عمر روحانی و جسمانی صحت کا ستیاناس کر لو گے کیونکہ بعض حالتوں میں شادی کے بعد بھی اس بری عادت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے دوران جماع عورت کے مقام مخصوصہ کی نرمی و گداز اس بدقسمت کو اپنا عادی( بمقابلہ ہاتھ کی گرفت یا سختی) نہیں بنا پاتی ہے بالکل اسی طرح جو لڑکیاں چپٹی لگانے کی عادی ہوتی ہیں وہ بھی ساری عمر اپنے مرد پر شاکی رہتی ہے کچھ عرصہ پہلے کراچی سے ایک عورت نے رابط کیا اور مجھے بتایا کہ جب بھی میرا شوہر باہر کام پر چلا جاتا ہے تو میں نے ایک ہمسایہ کی لڑکی کو بھی اس قبیح فعل میں مبتلا کر لیا ہے اور ہم اکٹھی ہاتھ سے فارغ ہوتی ہے حالانکہ یہ شادی شدہ بھی ہے بہرحال اللہ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے
ایک وقت جب میں کالج پڑھتا تھا تو ایک حمام میں بال کترانے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں تھا تو وہاں موجود بچہ رونے لگا مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ اس کے بڑوں میں سے کسی نے اس بچہ کے عضوتناسل کو چھیڑنا شروع کیا تو ہنسانے لگا اور وہاں پر موجود لوگ سب اس بات کا مذاق بنانے لگے ان جاہلوں کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ وہ اپنے کانوں کو محفوظ (بچہ کے رونے کی آواز) رکھنے کی سعی میں بچے کو لذت کے اس جنگل میں دھکیل رہے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تو بس اس طرح کی کوشش کبھی نہیں کرنی چاہیے
علامات
بار بار رگڑ کر منی کے خارج کرنے پر عضوتناسل اور اعضائے رئیسہ اور نظام بدن کی قوتیں ضیعف ہو جاتی ہیں جس سے پیشاب جلد اور جلن کے ساتھ آنے لگتا ہے رگڑنے سے عضوتناسل کی رگیں پھول جاتی ہے اور متواتر رگڑ سے عضو مخصوصہ کی اسفنجی ساخت پتلی پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے عضو تناسل کی افزائش و بڑھوتری رک جاتی ہے اور اس کی وجہ دوران خون کا مشت زنی ڈسڑب ہونا ہے
عضوتناسل کی حس جلق کی وجہ سے تیز ہونے سے کسی خوبصورت کو دیکھنے یا تصور سے ہی منی کا اخراج ہو جاتا ہے اور اگر فرد اس قبیح عادت کو ترک نہ کرے تو اگلی سٹیج میں محض کپڑےکی کی رگڑ سے انتشار ہوکر مادہ منویہ کا ضیاع ہونے لگتا ہے یہ حالت اس قدر افسوسناک ہے کہ فرد کے لیے قوی محرکات کی ضرورت پڑجاتی ہے بہر حال اس کیفیت میں احتلام، جریان،سرعت انزال اور ضعف باہ کے امراض ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے بلکہ یقینی طور پر فرد اپنی جسمانی صحت کو تباہ کر چکا ہوتا ہے
فقیر کے تجربات کے مطابق جلق کے مریضوں میں یہ علامات دیکھی ہیں جسمانی قوت کا کمزور ہونا، سست طبیعت و اداسیاں، مایوسی، کام کاج میں دل نہ لگنا، گھبراہٹ، لوگوں کی صحبت سے دور رہنا مگر جب کمزوری اعضائے رئیسہ یعنی دل، دماغ، جگر، معدہ، مثانہ ہو جائے تو پھر فرد امراض کا گھر سمجھو کیونکہ سردرد، نزلہ، زکام، بھوک نہ لگنا، قبض ہو جانا یا ہاضمہ خراب رہنا اور پرانی حالت میں جوڑوں اور کمر کا درد اور ساتھ میں دل کی دھڑکن تیز ہونا دیکھی گئ ہیں
فقیر نے دیکھا ہے کہ اسے لوگوں کے خیالات پراگندہ و متوحش ہوتے ہیں چہرے پر مردنی چھائی رہتی ہے تھوڑا سا کام کرنے پر سانس پھولنا، ہاتھ و پاؤں ٹھنڈا ہونا، جبکہ گرم موسم میں ہاتھوں و پیروں کے تلوؤں سے آگ نکلتی محسوس کرنا، جس سے حافظہ کمزور، آنکھیں اندر کی جانب دھنس اور ان کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں یا شروع شباب میں نیند کا آنا صرف جلق کی وجہ سے ہیں چاہے وہ فرد لڑکا ہو یا لڑکی فقیر اتنے باریک راز کو بتانا نہیں چاہتا تھا مگر ظاہر کیا کہ شاید کوئی توبہ کرے یا اپنے بچوں کی پرورش کا خاص خیال کرے
حفظ ماتقدم
اس جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی کے فیضان کے اثرات کے زیر سایہ نوجوانوں میں دس سے بارہ سال کی عمر میں شہوانی جذبات انگڑائیاں لینے شروع کر دیتے ہیں یعنی قوت بلوغت اپنا مظاہرہ شروع کر دیتی ہے عضو مخصوصہ سیکسوئیل تصویر یا ویڈیو یا تصور سے محرک ہو جاتا ہے یہی وہ عمر ہے جس میں والدین یا شفیق استاد اپنے عزیز ترین تلامذہ کو اسے برے فعل سے بچنے کی رہنمائی کر سکتا ہے جس میں نوجوان ناواقفیت کی وجہ سے اپنی زندگی کو برباد کر دیتا ہے
بس جو جوان گندے و فحش خیالات کو اپنے حوصلے و تدبر سے قابو میں رکھے وہی صحیح معنوں میں مرد کہلانے کا حقدار ہے پس جو مرد یا عورت اس کٹھن منزل کو صحت و سلامتی سے گزرے وہ خوش قسمت زندگی کا لطف اٹھاتا ہے اور یہاں اس سٹیج پر والدین کا حق ہے کہ بچوں کی حرکات و سکنات اور اس کے ملنے جلنے والوں گہری نظر رکھیں یا ان سے بات چیت کرکے ان کی ذہنی پہنچ کا اندازہ لگاتا رہے
جب فقیر نے دواخانہ شروع کیا تو ایک سید زادہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ان کے اولاد اور وہ خود اکثر میرے پاس آتے تو ایک دن میں نے کئی ہزار روپے ان کے سامنے بے فضول خرچ کر ڈالے تو اس نے مجھے بڑے پیار سے مجھے سمجھایا کہ
پتر تیرا پیو تنوں سمجھا دا نییں
مطلب آپ اپنے والدین کے پاس بیٹھ کرو اس وقت تو سمجھ نہیں آئی مگر جب ایک بھاری رقم کا مقروض ہوا تو والد صاحب کی بات اور شاہ صاحب کی بات بہت یاد آتی تھی شاہ صاحب اکثر اپنے بچوں کی یا اپنی امراض کی ادویات لیتے تھے بس جب وہ فوت ہوگئے تو فقیر نے دیکھا کہ ان کا ایک صاحب زادہ کئی سالوں بعد آیا جو سب سے چھوٹا تھا کثرت مباشرت کی وجہ سے ان کے عضوتناسل سے خون جاری ہو گیا تھا تو میں نے ان کو زوجہ سے دور رہنے کے لئے کہا اور علاج کیا تو اللہ نے صحت دی مطلب شاہ صاحب ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتا تھا مگر جب وہ دنیا سے رخصت ہو گئے تو بچے یار و احباب کے طور طریقوں پر چلنے لگے
ایک بات کا خاص خیال رکھے جو فقیر کے تجربات میں سے ہے کہ اگر گھر میں ملازمین ہو خواہ مرد ہو عورت بچوں کو ہرگز ان سے بے تکلف نہ ہونے دیں اور نوجوانوں کو بھی اپنے سے بڑے عمر کے لوگوں سے رابط نہ کرنا چاہیے اس کے بھی بہت زیادہ نقصانات دیکھے ہیں اس کے علاوہ ایک چارپائی پر اکٹھے بچوں کو نہ سونے دیں اور نہ لڑکیوں کو لڑکوں کی اور اسی طرح لڑکوں کو لڑکیوں کے صحبت اختیار کرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو کیبلز کے چینلز جو بےحیائی پر مبنی ہو سے بچائے جائے
اسی طرح سکول کے اساتذہ بھی بچوں کو اسلامی حدود میں رہ کر احسن طریقے سے ان کو بری صحبت سے بچنے کی تلقین کرے کیونکہ مریضوں سے پوچھ کچھ کرنے کے بعد میں یہی کہوں گا ہزار ہا نوجوان جلق جیسی برے فعل کے عادت سکول، مدرسہ و بورڈنگ ہاؤس سے ہی سیکھتے ہیں اور لڑکیاں زیادہ تر فقیر نے وہ مشت زنی میں ملوث دیکھی جو انٹرنیٹ کی عادی ہیں یا یونیورسٹی کے ہاسٹل میں قیام پزیر ہیں
علاج
فقیر علاج میں کیا لکھے ایک معالج نے بہت خوب کہا تھا بس اس کا علاج ایک ہی دوا ہے کہ مریض دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف زندہ کر کے اس مکروہ فعل سے بچنے کی کوشش کرے اور فقیر کہتا ہے کسی درویش کامل کی صحبت اپنائے تو بھی اللہ اسے اس گناہ سے بچنے کی توفیق دیتا ہے
میرے مرشد کریم اکثر فرماتے ہے
جب بھی میرے ساتھ کچھ نئے سالکین کو دیکھتے تو کہتے کہ اچھا دوست اسے اچھائی کی طرف اور برا دوست اسے برائی کی طرف لے جاتا ہے
فقیر دعا کرتا ہے کہ اللہ ہم سب کے حال پر رحم کرے ایک سالک تھا جو مشت زنی کے علاوہ زنا کا بہت شوقین تھا اور بہت ساری لڑکیوں کے ساتھ اس کے مراسم تھے فقیر اسے بہت سمجھاتا تھا مگر کچھ بھی اس پر اثر نہ ہوتا تھا کیونکہ وہ مجھے بتاتا کہ میں بہت سارے ملاؤں جو مختلف فرقوں سے وابستہ ہیں کو جانتا ہو جو شراب پینے کے علاوہ زنا، مشت زنی جیسے قبیح فعل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے ہم سب گنہگار ہیں کسی نہ کسی طرح بہرحال قصہ مختصر ایک دن محفل ذکر پر جانے کے لیے تیار ہو گیا بس اللہ کے ولی کی نگاہ پڑی اور زندگی بدل گئی کچھ دن بعد شیخ کا مرید ہوا اور پھر اس دن سے لیکر آج تک نہ زنا کرنے پر قادر ہو سکا اور نہ مشت زنی پر بقول سالک کے کئی بار وہ زنا کے ارادہ سے گھر سے نکلتا مگر فریقین کی طرف عین وقت پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا بالآخر شادی ہوگئی اور سب دوسرے لوگوں سے منہ موڑ کر ذکر اللہ کی طرف رجوع ہوا مطلب اس مرض کا علاج سب سے بہتر جو ہے وہ شادی کرنا ہے تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے کہ اپنے مذہب کے مطابق عبادات ادا کرے
اس کے علاوہ شہوت انگیز خیالات سے بچے، سادہ و زود ہضم غذائیں کھائیں گرم و محرک اشیاء سے جیسے گوشت، انڈے، کباب اور شراب سے دوران علاج و معالجہ پرہیز کرے اور اسی جہاں تک ممکن ہو بادی و نفاخ اشیاء سے بچے
روزانہ صبح و شام سیر کی عادت ڈالیں
رات کو جلدی سوئے اور کھانا کم از کم تین گھنٹے قبل کھائے اور کھانے کے بعد سوائے سادہ پانی کے کچھ نہ لیں
سردی و گرمی میں ہمیشہ تازہ و سرد پانی سے غسل کرے اور کپڑے صاف و شفاف رکھے
اور آخر میں پھر کہو گا کہ صالح لوگوں کے ساتھ رابط رکھے
اس طلا سے پندرہ دنوں میں عضو تناسل میں موجود جلق کے نقائص دور ہو کر ورجن عضو تیار ہو جاتا ہے
اجزاء
روغن بیضہ مرغ 15 ملی لیڑ
چربی سانڈہ 15 گرام
بیر بوٹی 6 گرام
زعفران 2 گرام
مشک اصلی 2 ملی گرام (اگر رقم ہو تو دو گرام ڈالے)
پہلے دو ادویہ کو یکجا کر لیں اور پھر 6 گرام بیر بوٹی شامل کر کے چولہے پر دھیمی آنچ دیں اور بیر بوٹی کے جل جانے پر کپڑ چھان کر لیں اور زعفران و مشک ملا کر پیسٹ بنا لیں اور شیشی میں محفوظ رکھے
طریقہ استعمال
دو چنوں یا قطرے کی مقدار برابر طلا عضو پر مساج کرے اور ا س کے ساتھ ہمارے دواخانہ کا مردانہ کمزوری کا کورس کا استعمال یقنینا مشت زنی کے نقصانات کو دور کر کے اس کی حقیقی زندگی کا لطف دوبالا کر دیتا ہے
نوٹ
جو مریض تیار نہیں کر سکتا یا دوا تیار کرنے میں کس قسم کا مشورہ چاہیے تو پوسٹ پر کمنٹ کر کے پوچھ سکتا ہے انشاءاللہ ہم رہنمائی کرے گے یا تیار شدہ دوا آرڈر کرنے کے لیے نیچے دیئے گئے فارم کو پر کریں

فقیر حکیم محمد سہیل نقشبندی چشتی
فون نمبر اینڈ واٹس ایپ
923456752811

[contact-form-7 404 "Not Found"]

1 thought on “Musht Zani (Masturbation) Ke Nuqsanat or Herbal Ilaaj”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *