نبض / pulse in urdu / nabaz

nabaz dekhne ka tarika / نبض شناسی
نبض / pulse in urdu / nabaz
نبض روح کے ظروف وقلب وشرائین کی حرکت کانام ہے کہ نسیم کو جذب کرکے روح کو ٹھنڈک پہنچائی جائے اورفضلا ت د خانیہ کوخارج کیاجائے اس کا ہر نبضہ (ٹھو کر یاقرع) دو حرکتوں اور دو سیکونوں سے مرکب ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک بنضہ انسباط اور انقباص سے مرکب ہوتا ہے یہ دونوں حرکتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں اور ہر دو حرکتوں کے درمیان سکون کا ہونا ضروری ہے۔
سائنس کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ قو ت سے حرکت اور حرکت سے حرارت پیدا ہوتی ہے یہی نظام زندگی میں راوں دواں ہے نبض کے ذریعے بھی ہم مریض کے جسم میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت اس کے جسم میں قوت کی زیادتی ہے یا حرکت کی زیادتی ہے یا حرارت کی زیادتی ہے یا ان میں کس کس کی کمی ہے اسی کے تحت نبض کی باقی جنسیں بھی پرکھی جاسکتی ہیں
نبض دیکھنے کا طریقہ
طبیب اپنی چاروں انگلیاں مریض کی کلائی کے اس طرف رکھے، جس طرف کلائی کا انگوٹھا ہے، اور شہادت کی انگلی پہنچے کی ہڈی کے ساتھ نیچے کی طرف اور پھر شریان کا مشاہد ہ کریں ۔
نبض کی دس اجناس ہیں
مقدار
قرع نبض
زمانہ حرکت
قوام آلہ
زمانہ سکون
مقدارِ رطوبت
شریان کی
وزنِ حرکت
استوا واختلا ف نبض
نظم نبض

مقدار
مقدار کی تین اقسام ہیں
طویل
عریض
شرف
طویل
یہ وہ نبض ہے جس کی لمبائی معتدل و تندرست شخص کی نبض سے نسبتاً لمبائی میں زیادہ ہو۔ طویل نبض حرارت کی زیادتی کوظاہر کرتی ہے اگر اس کی لمبائی دو انگلیوں تک ہی رہے تو یہ معتدل ہوگی ۔ اوریہ دوانگلیوں سے کم ہوتو یہ قیصر ہوگی اورقیصر نبض حرارت کی کمی کوظاہر کرتی ہے۔
عریض
چوڑی نبض جوکہ انگلی کے نصف پور سے زیادہ ہو رطوبت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جوکہ نصف پور ہو معتدل ہوگی اورجس کی چوڑائی نصف پور سے کم ہوگی رطوبت کی کمی کا اظہار کرے گی۔
شرف (بلند)
جونبض بلندی میں زیادہ محسوس ہوایسی نبض حرکت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے جودرمیان میں ہوگی معتدل اورجو نبض نیچی ہوگی اسے منحفض کہتے ہیں ۔ یہ حرکت کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔

قرغ نبض
اگر نبض انگلیوں کو سختی سے اوپر کی طرف دھکیل رہی ہے تو ایسی نبض قوی کہلاتی ہے یعنی ذرا زور سے ٹھوکر لگانے والی نبض ہی قوی ہے یہ نبض قوت حیوانی کے قوی ہونے کوظاہر کرتی ہے اوراگر یہ دبائو درمیانہ سا ہو تومعتدل ہوگی ۔اورجو نبض دبانے سے آسانی کے ساتھ دب جائے تویہ نبض ضعیف کہلاتی ہے یعنی قوت حیوانی میں صغف کا اظہار ہے۔

زمانہ حرکت
اس کی بھی تین ہی اقسام ہیں
سریع
متعدل
بطی
سریع
سریع نبض وہ ہوتی ہے جس کی حرکت تھوڑی مدت میں ختم ہوجاتی ہے یہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ قلب کو آکسیجن کی حاجت ہے جسم میں دخان (کاربانک ایسڈ گیس) کی زیادتی ہے۔
بطی یعنی سست
بطی نبض میں قلب کو ہوائے سرد کی حاجت نہیں۔

قوام آلہ – شریان کی سختی ونرمی
اس کی تین اقسام ہیں
صلب
معتدل
لین

صلب
صلب نبض میں انگلیوں سے دبانے میں سختی کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ بدن کی خشکی کو دلالت کرتی ہے
لین
لین نبض صلب کے مخالف ہوتی ہے یعنی نرم ہوتی ہے ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے ۔
معتدل
معتدل نبض اعتدل رطوبت کا اظہار ہے۔

زمانہ سکون
تین اقسام ہیں
متواتر
تفاوت
معتدل

متواتر
متواتر نبض جس میں وہ زمانہ تھوڑا ہوجو دو ٹھوکروں کے درمیان محسوس ہوتاہے ۔ یہ نبض قوت حیوانی کے ضعف کی دلیل ہے قوت حیوانی میں ضعف یاتوحرارت کی زیادتی کی وجہ سے ہوگا یاپھر رطوبت کی زیادتی سے ہوگا۔

مقدارِ رطوبت
اگر ممتلی ہو تو اس میں ضرورت سے زیادہ خون اور روح ہوگی جوکہ صحت کے لئے مضر ہے اسی طرح اگر نبض خالی ہوگی تو خون اور روح کی کمی کی علامت ہے کمزوری کی دلیل ہے

شریان کی کیفیت
جسم کی حرارت وبرودت (گرمی وسردی ) کو پرکھا جاتا ہے اس کو جانچنا بہت آسان ہے اگر نبض چھونے سے حرارت زیادہ محسوس ہو تو یہ نبض حار ہوگی، گرمی پر دلالت کریگی اور گرم نبض عموماً طویل اور ضیق بھی ہوتی ہے ۔ اگر نبض پر ہاتھ رکھنے سے مریض کا جسم سرد محسوس ہو تو یہ نبض بارد ہوگی

وزن حرکت
اس نبض سے معلوم کرتے ہیں کہ نبض کا زمانہ حرکت اور زمانہ سکون مساوی ہے۔ نبض جب پھیلے تو اس کو حرکت انسباطی کہتے ہیں اور جب اپنے اندر سکڑے تو اسے حرکت انقباص کہتے ہیں۔ ان دونوں کے زمانوں کا فرق ہی اسکا وزن کہلاتا ہے۔
اگر یہ زمانہ سکون مساوی ہے تو نبض انقباص وانسباط (پھیلنا اور سکٹرنا) کے لحاظ سے حالت معتدل میں ہوگی اسے جیدالوزن کہا جاتا ہے
اور اگر انقباض وانسباط مساوی نہ ہو بلکہ دونوں میں کمی بیشی پائی جائے یہ نبض صحت کی خرابی کی دلیل ہے۔ ایسی نبض کو خارج الوزن کا نام دیا گیا ہے۔
اگر نبض عمر کے مطابق اپنی حرکت وسکون کے وقت کو صحیح ظاہر نہ کرے یعنی بچے، جوان، بوڑھے کی نبض کے اوزان ان کی اپنی عمر کے مطابق نہ ہوں تو یہ ردی الوزن کہلائے گی۔

استوا واختلاف نبض
اسکی دو اقسام ہیں
مستوی
مختلف

مستوی
مستوی نبض میں تمام اجزاء تمام باتوں میں باقی نبض کے مشابہ ہوں یہ نبض بدن کی اچھی حالت ہونے کی علامت ہے ۔
مختلف نبض
نبض مختلف میں مستوی کے مخالف ہو اور اس کے برعکس پر دلالت کرے ۔

مرکب نبض کی اقسام
تعریف
مرکب نبض اس نبض کو کہتے ہیں جس میں چند مفرد نبضیں مل کر ایک حالت پیدا کردیں۔ اس سلسلہ میں اطباء نے نبض کی چند مرکب صورتیں بیان کی ہیں، جن سے جسم انسان کی بعض حالتوں پر خاص طور پر روشنی پڑتی ہے اور خاص امراض میں نبض کی جو مرکب کیفیت پیدا ہوتی ہے، ان کا اظہار ہوتا ہے۔
وہ چند مرکب نبضیں درج ذیل ہیں
نبض عظیم
جو طول و عرض و شرف میں زیادہ ہو۔ ایسی نبض قوت کی زیادتی کا اظہار کرتی ہے جو نبض تینوں اعتبار سے صغیر ہوگی وہ قوت کی کمی کا اظہار ہے
نبض غلیظ
غلیظ وہ نبض ہے جو صرف چوڑائی اور بلندی میں زیادہ ہو۔
نبض غزالی
جو انگلی کے پوروں کو ایک ٹھوکر لگانے کے بعد دوسری ٹھوکر ایسی جلدی لگائے کہ اس کا لوٹنا اور سکون کرنا محسوس نہ ہو یہ نبض اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ترویج نسیم کی جسم میں زیادہ ضرورت ہے۔
موجی نبض
جس میں شریانوں کے اجزاء باوجود ہونے کے مختلف ہوتے ہیں کہیں سے عظیم کہیں سے صغیر کہیں سے بلند اور کہیں سے پست کہیں سے چوڑی اور کہیں سے تنگ گویا اس میں موجیں (لہریں) پیدا ہو رہی ہیں جو ایک دوسرے کے پیچھے آرہی ہیں ایسی نبض رطوبت کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے
نبض دودی
(کیڑے کی رفتار کی مانند) یہ نبض بلندی میں نبض موجی کے مانند ہوتی ہے لیکن عریض اور ممتلی نہیں ہوتی یہ نبض موجی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس کی موجیں ضعیف ہوتی ہیں گویا اس کے خلاف صغیر ہوتی ہے ایسی نبض قوت کے ساقط ہونے پر دلالت کرتی ہے لیکن سقوط قوت پورے طور پر نہیں ہوتا اس نبض کو دودی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ حرکت میں اس کیڑے کے مشابہ ہوتی ہے جس کے بہت سے پائوں ہوتے ہیں بوجہ تحلیل نبض میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔
نبض ممتلی
جو نہایت ہی صغیر اور متواتر ہوتی ہے ایسی نبض اکثر قوت کے کامل طور پر ساخط کے ہو جانے اور قربت الموت کے وقت ہوتی ہے یہ نبض دودی کے مشابہ ہوتی ہے لیکن اس سے زیادہ صغیر اور متواتر ہوتی ہے
نبض منشاری (آرے کے دندانوں کی مانند)
جو بہت مشرف، صلب، متواتر اور سریع ہوتی ہے اسکی ٹھوکر اور بلندی میں اختلاف ہوتا ہے یعنی بعض اجزا سختی سے ٹھوکر لگاتے ہیں بعض نرمی سے اور بعض زیادہ بلند ہوتے ہیں اور بعض پست گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نبض کے بعض اجزاء نیچے اترتے وقت بعض انگلیوں کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ یعنی ایک پورے کو جس بلندی سے ٹھوکر لگاتے ہیں اس سے کم دوسرے پورے کو یہ نبض اس امر کو ظاہر کرتی ہے کہ کسی عضو میں ورم پیدا ہو گیا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں اور عضلات وغیرہ میں اور اس کے علاوہ نبض ذنب الفار، نبض ذولفترہ، نبض واقع فی الوسط، نبض مسلی، مرتعش اور ملتوی وغیرہ بھی بیان کی جاتی ہیں، جن سے کسی مزاج کی واضح پہچان مشکل ہے، اس لئے ان کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
اہمیت نبض
جو لوگ نبض شناسی سے آگاہ ہیں اور پوری دسترس رکھتے ہیں ان کے لیے نبض دیکھ کر امراض کا بیان کر دینا بلکہ ان کی تفصیلات کا ظاہر کر دینا کوئی مشکل بات نہیں۔ ایک نبض شناس معالج نہ صرف اس فن پر پوری دسترس حاصل کر لیتا ہے بلکہ وہ بڑی عزت ووقار کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ نبض سے صرف قلب کی حرکات ہی کا پتہ چلتا ہے بلکہ اس میں خون کے دبائو خون کی رطوبت اور خون کی حرارت کا بھی علم ہوتا ہے۔ ہر حال میں دل کی حرکات بدل جاتی ہیں جس کے ساتھ نبض کی حرکات اس کے جسم اور اس کے مقام میں بھی تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں جس سے انسانی جسم کے حالات پر حکم لگایا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *