syphilis | atshik in urdu

آتشک (Syphilis / Chancer)
مرض اٹھہرا و عورت و بچہ جو بعد از پیدائش متاثر ہوتے ہیں

اردو میں اس مرض کو آتشک جبکہ فارسی نام مرض کو واضح کرتا ہے یعنی آبلہ فرنگ جبکہ جدید طب سفلس یا شنکر کی اصطلاح میں جانتے ہیں
مرض کا سبب ٹریپونیما پلائی ڈم (Treponemapallidum) نامی جرثومہ ہے شکل چابک سے ملتی اور حرکات سانپ سے مشابہ ہیں صحت مند جسم خدانخواستہ ساتھ ٹچ ہو جائے تو اس میں بھی سرایت کر جاتا ہے بالخصوص زخم، رگڑ اور جسم کا نازک و ملائم حصہ
انیڑنیٹ کی جو معتبر طبی لنکس ہیں ان کے مطابق اس کی تاریخ کچھ یوں ہے یہ امریکہ سے درآمد بیماری ہے کولمبس کی ساتھی کشتی بان اس مرض خبیثہ میں مبتلا ہوئے اور ان سپین کے کشتی بانوں میں سرائیت کیا اور ان سے جماع کرنے والی خواتین سے آگے دنیا میں پھیلتا چلا گیا 1493 عیسوی میں فرانس کے بادشاہ کو غیر ملکی فوج کی ضرورت پڑی تو سپین کی فوج سے فرانسیسی فوج میں یہ جراثیم منتقل ہوا اور فرانسیسی فوج سے برطانوی فوج میں اور برطانوی فوج کے فرستادوں کے ذریعے یہ برصغیر میں در آیا اور آج بھی لوگ اس مرض کا شکار زیادہ تعداد میں ساحلی شہروں میں یا قحبہ خانوں میں ملتے ہیں
اس مرض کی تین قسمیں اور تین ہی درجے ہیں

پیدائشی آتشک (Congenital Syphilis)
آتشکی زخم
آتشک مجازی

پہلی قسم متاثرہ ماں سے بچہ کو لاحق ہوتی ہے بس اسی وجہ زیادہ تر حمل ساقط ہو جاتا ہے جیسے عام لوگ مرض اٹھہرا کے نام سے جانتے ہیں جدید ریسرچ کے مطابق اسی فیصد بچے قبل از وقت پیدا ہوجاتے ہیں زیادہ تر دو تا تین فیصد بچے پورے وقت پر پیدا ہو بھی جائے تو وہ مردہ پیدا ہوتے ہیں اور اگر زندہ پیدا ہو بھی جائے تو زندگی میں طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور ساتھ پیدائشی طور پر کمزور ہوتے ہیں
بچہ کی پیدائش کے چالیس دنوں کے اندر سرخ دانے نکل کر کھانسی و زکام کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعض بچوں میں بزرگوں نے لکھا ہے کہ پیشاب کے ساتھ خون بھی آتا ہے
بچہ یہاں سے بچ جائیں تو چھ ماہ اس پر فالج کی شکایت کا حملہ ہوتا ہے جس کی علامات مقعد و خصیوں یا زنانہ اعضائے تناسل پر پھوڑے و پھنیساں ساتھ ہو گی
عمر ساتھ دے تو ایک سال کے بعد بچے کی ہڈیوں کے سروں پر ورم یعنی سوجن کی علامت ظاہر ہو گی یہ دانے سرخ اور درد سے بھرے ہوں گے اور آنکھیں بھی متاثر ہو گی اگر بروقت علاج نہ ہو تو دو تا تین فیصد بچے بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں
اگر مقدر ساتھ دے عمر دارزی کا تو پھر دوسرے سال بچہ کی ناک کا بانسہ بیٹھا دیتا ہے انگلیاں سوج جاتی ہیں ناک و نرخرہ متاثر ہو کر بچہ سوں سوں کرنا یعنی نزلہ مزمن میں مبتلا رہتا ہے
جب بڑا ہو جائے تو گھٹنوں کی جوڑ ڈھیلے و موٹے ہو جاتے ہیں دانت ٹیڑھے،اعصابی دردیں، حافظہ کمزور اور جلد کی رنگت مٹیالی ہونگی اور بروقت علاج نہ ہو تو آہستہ آہستہ رنگت تانبہ کی طرح ہو گی

نمبر دو یعنی آتشکی زخم

اس کی وجہ ہیمو فلس ڈکری (Hemophilus Ducreyi) نامی بیکٹیریا ہے یہ جنسی اعضائے تناسل پر درد ناک زخم بناتا ہے اور بعض اوقات دانے بھی ساتھ ہوتے ہیں اور چڈھوں کے غدود پھول جاتے ہیں یہ زیادہ تر عورتوں کی نسبت مردوں کو ہوتا ہے

نوٹ
صبحت اس فریق سے کرنے پر جو متاثر ہو اس مرض آتشک سے ٹھیک سات دن کے عرصے میں یہ مرض نمودار ہو جاتا ہے

تیری قسم آتشک مجازی

یہ تمام بدن میں نہیں صرف فرد کے محدود حصوں میں ظاہر ہوتا ہے اس قسم کے زخموں میں خراب خون خارج نہیں ہوتا اور زخم بھی نرم ہوتا ہے یعنی سپاری کے نیچے والے حصہ پر زخم بنتا ہے اور گہرا نہیں ہوگا اور ایک سے زیادہ ہوں گے ان کی رنگت میلی ہو گی اور پیپ بہہ گی اکثر دو تا تین ماہ رہ کر آرام آجاتا ہے
اس میں زیادہ تر عورتیں مبتلا ہوتی ہیں

(جلد بقیہ حصہ ویب لنک پر پوسٹ کر دیا جائے گا)

فقیر حکیم محمد سہیل نقشبندی چشتی
(ماہر امراض معدہ و جنسی امراض)
واٹس ایپ & فون نمبر
03073905260

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *