uric acid kya hai / uric acid in hindi & urdu / uric acid ka ilaj

uric acid kya hai / uric acid in hindi & urdu / uric acid ka ilaj

خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی ، اسباب ، علامات ، اور علاج

(HYPERURICEMIA ) خون میں یورک ایسڈ کی زیادتی

یورک ایسڈ(Uric Acid) ایک قسم کا نامیاتی ترشہ(Organic acid) ہے ۔ جس کا تعلق پیورین گروہ(Purines Group) سے ہے۔اسکا کیمیائی فارمولا C5H4N4O3 ہے اور اس کا سالماتی یا مالیکولر وزن169(Molecular Weight 169) ہے ۔ یورک ایسڈ بے رنگ قلمی ٹھوس یا کرسٹل(Crystal) کی طرح ہوتا ہے ۔ اور یہ پانی میں حل ہو جاتا ہے ۔ یورک ایسڈ خلیے (Cell) کے اندرونی حصے یا نیو کلئر پروٹینز(Nucleoproteins) کے اجزاء پیورنیز(Purines) جس میں ایڈی نین (Adenine) ، گوانین (Guanine)اور زینتھین(Xanthine)وغیرہ شامل ہیں ان کی بافتوں میں توڑ پھوڑ سے بننے والی آخری شئے ہے ۔ پیورین کو جسم میں تالیف یا تیار(Synthesize) بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اور یہ بذریعہ خوراک بیرونی ذرائع سے بھی انسانی جسم میں آتی ہیں۔ پیورینز کی توڑ پھوڑ سے یورک ایسڈ بنتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ یورک ایسڈ پیورینز کی ٹوٹ پھوٹ سے حاصل ہونے والا فضلہ ہے ۔ پیورین آر این اے (RNA) اور ڈی این اے (DNA) کی تالیف کے لئے بھی بہت ضروری ہیں۔ جب یہ یورک ایسڈ جسم میں اپنی نارمل مقدار سے بڑھ جائے تو یہ جوڑوں میں درد خاص طور پر چھوٹے جوڑوں میں تہہ نشین ہو کر جوڑوں میں سوجن ورم اور درد پیدا کرتا ہے

جسم میں یورک ایسڈ کی نارمل مقدار
مردوں میں یورک ایسڈ کی نارمل مقدار دو اعشاریہ پانچ سے سات اعشاریہ پانچ ملی گرام فی ڈیسی لیٹر( 2.5to 7.5 mg/dL ) ہوتی ہے
عورتوں میں اسکی نارمل مقدار(1.5to6 mg/dL) تک ہوتی ہے۔
بعض مریضوں میں جب یورک ایسڈ (5to 6 mg/dL) تک بھی ہو جائے تو انہیں جوڑوں کا درد شروع ہو جاتا ہے
بعض اوقات یورک ایسڈ زیادہ ہونے کے باوجود بھی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

یورک ایسڈ کی وجوہات
جینیاتی (Genetic) خرابیاں اور خاص قسم کا خامرہ (Enzyme) ہائپوزینتھین گوانین فاسفوریبوسائل ٹرانسفریز(HPRT) کی کمی یا زیادتی یا فاسفوریبو سائل پائیرو فاسفیٹ سینتھیٹیز کی زائد کارکردگی بھی خون میں یورک ایسڈ کی شدید زیادتی کا سبب بن سکتے ہیں۔
مخلوط غذا(Mixed Diet) کھانے والے صحت مند بالغوں میں ایک دن میں یورک ایسڈ 10ملی گرام فی کلو گرام کی شرح سے پیدا ہوتا ہے یا بنتا ہے ۔ یہ یورک ایسڈ گردے کی یورک ایسڈ پر مشتمل پتھریوں ، پیشاب اور یورک ایسڈ کے ذروں کا ایک عام جزو بھی ہوتا ہے ۔ یورک ایسڈ کا انسانی جسم سے اخراج بہت ضروری ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ہضم نہیں ہوتا یا جزو بدن نہیں بنتا ہے ۔ پروٹین ، نائٹروجنی غذائیں کھانے ، ورزش کے بعد،خلیے پر زہریلے اثرات مرتب کرنے والی ادویات یا خلوسمی ادویات(Cytotoxic Drugs) کا استعمال، نقرس(Gout) سفید خلیات کی زیادتی/ ابیضاض الدم (Leukemia) اور حاد وجع المفاصل (Articular Rheumatism) میں اس کا اخراج زیادہ ہوتا ہے ۔ اور گردوں کی سوزش(Nephritis)، سبز بھس (Chlorosis)، سیسہ کے زہریلے اثرات، بریلیم (Beryllium) کے زہریلے اثرات اور پروٹین فری خوراک کھانے کے دوران اس کے اخراج میں کمی یورک ایسڈ کا باعث بنتی ہے

یورک ایسڈ بڑھنے سے پیدا ہونے والے امراض
وجع المفاصل ، نقرس (Gout or Podegra)
جب یورک ایسڈ کی لگاتار خون میں مقدار بڑھی رہے تو مریض نقرس مزمن میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اور مزمن نقرس میں ایک مخصوص نسیجیاتی یا بافتی تبدیلی (Histologic Lesion) پیدا ہوتی ہے ۔ اس بافتی تبدیلی کو گلٹی یا ٹوفس(Tophus) بننا کہتے ہیں۔ اصل میں یہ گلٹیاں مونو سوڈیم یوریٹ مونو ہائیڈریٹ کرسٹل کی بافتوں میں تہہ نشینی سے پیدا ہونے والا ایک گلٹی نما (Nodular)ابھار ہوتا ہے ۔جوعضارین یا کریوں(Carlilages)، زیر جلد، جوڑ کے گرد، رباط، واصل بافت(Connective tissue) وتروں(Tendons)، ہڈی ، گردے ، کہنی کے مقام پر نظر آ سکتے ہیں۔ بہت کم یورک ایسڈ کی زیادتی سے بننے والی یہ گلٹیاں انگلی کے پوروں کی جلد ، ہتھیلی ، تلوے ، ناک کی نرم ہڈی ، اورطیٰ(Aorta) ، مائٹرل والو اور کبھی کھبار مرکزی نظام عصبی (CNS) آنکھوں ، حنجرہ، قضیب اور خصیوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

شديد یا حاد نقرس کی تولید مرض (Pathogenesis of Acute Gout)
حاد نقرس کی تولید مرض(Pathogenesis) کثیر النوات خلیات (Polymorphonuclear) یوریٹ کرسٹل(Uricacid Crystals) کو ہضم کرنے (Phagocytosis) سے شروع ہوتا ہے ۔ کیونکہ یورک ایسڈ کے کرسٹلز حاد ورم کے دوران جوڑوں کی غشائے زُلالی(Synovial Membrane)اور رطوبت زلالی میں موجود ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اعتدال پسند خلیے(Neutrophils) ایک قسم کی پروٹین (Chemotectic Glycopsoein) خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ورم کے مقام پر کثر النوات خلیات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اور خون کے سفید خلیات کا ہضم کرنے کا عمل یا عمل اکالیت (Phagocytosis)مزید تیز ہو جاتی ہے ۔ سفید خلیات جب یوریٹ کرسٹل کو ہضم کرتے ہیں تو ان خلیات کے اندر لائیزوسومز کی جھلی (Lysomal membrane) ٹوٹ جاتی ہے اور لائیزو سوم میں موجود خامرے خلیے کے اپنے اندر ہی بہہ جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سفید خلیات اپنے ہی خامروں سے تباہ ہو جاتے ہیں۔ لائیزو سومز کے اجزاء اور خامرے جوڑوں میں ورم پیدا کرنے کا بہت شدید محرک ثابت ہوتے ہیں اور اس وجہ سے جوڑوں میں ورم پیدا ہو جاتا ہے ۔ خون میں یورک ایسڈ کا تیزی سے کم ہونا ، اور بڑھنا حاد نقرس میں مزید شدت پیدا کر دیتا ہے ۔

یورک ایسڈ بڑھنے کے اسباب (Causes of Hyperuricemia)
انسانی جسم میں یورک ایسڈ درج ذیل اسباب ، وجوہات یا امراض کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے ۔ گردوں میں تھیلیوں کا بننا یا اکیاس گردہ (Poly cystic Kidneys) جینیاتی امراض(Genetic Defects)،ہیموگلوبن کے امراض(Haemaglobinopathies) مثلاً سیکل سیل انیمیا، مرض ولسن، مرض فنکونی، مرض ون گئرک ، ڈاؤن سینڈروم ، تھائیرائیڈ غدود کے فعل میں کمی یا عدم درقیت(Hypothyroidism) ، نزد درقی غدودوں کے فعل میں کمی (Hypoparathyroidism)، ابتدائی بیش نزد درقیت(Hyperparathyroidism) دوران حمل کا زہریلا پن (Toxemia of Pregnancy)، چنبل(Psoriasis) خون کے سرخ خلیات کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی خون کی کمیاں یا خون پاش فقر الدم (Hemolytic Anemia)، سار کوئی ڈوس(Sarcoidosis) گردوں کی خرابیاں ، ادویات مثلاً انگریزی مدر بول ادویات، ایسپرین (Asprin)، سائیکلو سپورین وغیرہ ، پروٹین کی زیادتی والی غذائیں کھانا، پیورین کی زیادتی والی غذائیں مثلاً میٹھی ڈبل روٹی ، جگر کھانا، دماغ، گردے ، مچھلی، مرغی اور دیگر قسم کے گوشت کھانا خاص طور پر سرخ گوشت کا بہت زیادہ کھانا، فاقہ کشی (Starvation) توارث(Heridity) ، نقرس(Gout)، الکوحل کا استعمال ، کئی قسم کے سرطان ، ابیاض الدم (Leukemia) لمفاوی رسولیاں (Lymphoma) ملٹی پل مائی لوما، پولی سائی تھیمیاویرا، مغزی تکاثری (Myloproliferative) خرابیاں، اس کے علاوہ سیسہ کے زہریلے اثرات(Lead Poisionmg) بریلم کے زہریلے اثرات(Berylliosis)، پانی کی جسم میں کمی ہو جانا (Dehydration)اور ان کے علاوہ بھی کئی ایسے اسباب ہوتے ہیں جو خون میں یورک ایسڈ کے اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یورک ایسڈبڑھنے سے پیدا ہونے والی علامات
Symptoms of Hyperuricemia
مرض میں پاؤں کے انگوٹھے ، تلوے اور انگلی والا جوڑ( مشطی سلامی جوڑ) سب سے زیادہ اس مرض سے متاثر ہوتا ہے ۔ لیکن پاؤں ، ایڑھیاں ، گھٹنے ، بھی عام طور پر اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور درد پیدا ہو سکتا ہے ۔ اور درد کی شدت کی وجہ سے انگوٹھے ، جوڑ یا متاثرہ جگہ کو ہاتھ لگانا یا ہلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ متاثرہ جگہ پر کھچاؤ بھی محسوس ہوتا ہے ۔ وہاں پر جلد کا استر چمکدار متورم اور گرم ہو جاتا ہے ۔ وریدیں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ جسمانی درجہ حرارت 39Cتک پہنچ جاتا ہے ۔ مقامی جلد کی بیرونی سطح اترنا (Desqumation) اور خارش کی علامت بھی پائی جا سکتی ہے۔
اس طرح کے کئی حاد حملے ہونے کے بعد اور مناسب علاج نہ کروانے کے بعد نقرسی گلٹیاں(Tophi) کی پیدائش یعنی گلٹیاں بننا شروع ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر ابتدائی حاد حملے کے بعد کئی ماہ یا سالوں کا غیر علاماتی (Asymptomatic)دور ہوتا ہے ۔ اس کے بعد یہ مرض مزمن نقرس( Chronic Gout) ہو جاتا ہے ۔ جس کے ساتھ تیزی سے ہونے والی کمیاں (Disabilities) معزوری، ٹوفس اور جوڑوں کی بد نمائی بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔

یورک ایسڈ کی زیادتی سے پیدا ھونے والی پیچیدگیاں
اگر یورک ایسڈ کی زیادتی (Hyperuricemia) کا فوراً مناسب علاج نہ کروایا جائے تو آہستہ آہستہ مرض پرانا یا مزمن(Chronic) ہو جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں گلٹیاں یا ٹوفس(Tophus) جن کا پیچھے تفصیلی ذکر کیا ہے ، گردے کی یورک ایسڈ پر مشتمل پتھریاں ، جوڑوں میں تباہی (Destructive Arthropathy) یا ساختی خرابیاں کری یا نرم ہڈی کا گھساؤ جس کے نتیجے میں عظمی مفصلی التہاب Osteoarthritis)پیدا ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ فشار الدم قوی(Hypertension) ، امراض گردہ ، گردے کی بافتوں کی سختی ، ورم حوض گردہ (Pyelonephritis)، ذیابیطس شکری ، خون میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادتی ، شریانوں کی تنگی اور سختی (Atheroseclerosis) پیدا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔

غذا سے یورک ایسڈ کی زیادتی کا علاج
غلہ جات میں گندم ، مکی ، چاول اور ان سے بننے والی مصنوعات، کارن فلیک، پھیکی یا سفید ڈبل روٹی ، خمیری روٹی، اراروٹ، ساگودانہ ، جو کا دلیہ ، کیک ، شہد ، ذرشک، دودھ اور دودھ کی مصنوعات، انڈے کی سفیدی ، چینی ، شکر، مٹھائیاں ، جیلا ٹین ، مصنوعی مکھن مارجرین
سبزیاں میں خاص طور پر شلجم ، کدو، حلوہ کدو، ٹینڈے ، مولی ، گاجر، بھنڈی ، کھیرا، ترئی، مولی ، پیاز ، دھنیا
پھلوں میں لیچی ، لوکاٹ، سٹرابری، امرود، انجیر، مالٹا، کینو، ناشپاتی ، کیلا ، خربوزہ ، تربوز وغیرہ
گوشت کیا جزاء کے بغیر بنا ہوا سوپ بھی پی سکتے ہیں۔

پرہیز
پرہیز علاج سے بہتر ہے ۔ پرہیز پر بہت خاص توجہ دینی چاہئے ۔
یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا مریض درج ذیل غذاؤں سے پرہیز کریں ۔ سارے گوشت یعنی گائے ، بھینس، بچھڑا، مرغی ، مچھلی وغیرہ اس کے علاوہ سبزیاں ،آلو، بینگن ، اروی ، شکر قندی ، ٹماٹر ، اچار، دیگر ترش اشیاء انڈے کی زردی ، کلیجی ، گردے ، کپورے، دماغ گھی اور دیگر چکنائیاں ، تلی ہوئی اشیاء ، الکوحل ، لوبیا، مسور ، ماش ، مٹر ، مشروم، پالک، ساگ اور ہو سکے تو کافی اور چائے کی کثرت سے بھی پرہیز کریں۔
نوٹ
یورک ایسڈ کی زیادتی کے مریض پانی زیادہ پئیں اور روزانہ کم از کم دو سے تین لیٹر پانی ضرور پئیں کیونکہ یورک ایسڈ پانی میں حل ہو جاتا ہے ۔ اس لئے زیادہ پانی پینے سے اس کے اخراج میں مدد ملے گی۔

احیتاطی تدابیر
لیکن کھانے کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں پانی نہ پئیں زیادہ پانی کے استعمال سے یورک ایسڈ گردے ، مثانے اور بافتوں میں تہہ نشین نہیں ہو پائے گا

یورک ایسڈ کا علاج
ھوالشافی
اجزاء
سناء مکی ، قسط شیریں ، پوست ہلیلہ زرد، مصبر، سورنجاں شیریں ، تمام اجزاء ہم وزن لے کر سفوف کر لیں
طریقہ تیاری
پانچ سو ملی گرام کے کیپسول بھر لیں
مقدار خوراک
ایک تا دو عدد صبح دوپہر شام کھانے کے بعد عرق بادیان آدھا کپ کے ساتھ استعمال کریں یا سادے پانی سے کھا لیں۔
فوائد
نقرس،جوڑوں کے درد، یورک ایسڈ کے اخراج کے لئے بہت مفید ہے ۔
اس سے قبض بھی ختم ہو جاتی ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *