موٹاپا کم کریں / وزن گھٹائیں / Reduce Obesity / Motapa kam karen / Weight Loss

موٹاپا کم کریں / وزن گھٹائیں  / Reduce Obesity / Motapa kam karen / Weight Loss

موٹاپا، فربہی اور تنومندی — یعنی جسم کا حد سے زیادہ موٹا ہو جانا — کو اطباء اکرام “سِمَنِ مفرِط” کی اصطلاح سے بیان کرتے ہیں، جبکہ میڈیکل سائنس میں اسے Obesity کہا جاتا ہے
اس حالت میں جلد کے نیچے اور اندرونی اعضاء کے گرد چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کی حرکات میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ جسم پھولا ہوا، وزنی اور بے ڈھول محسوس ہونے لگتا ہے

موٹاپا کب اور کس عمر میں عود کرتا ہے؟
نوجوان جسم 30 — برس کی عمر کے بعد موٹاپے کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور ایک سال میں 2 — 5 کلو وزن بڑھا لیتا ہے

سائنس کے مطابق موٹاپے کی اصل وجہ اور گروتھ ہارمون کا کردار
موٹاپا سائنس کے مطابق دماغ میں بننے والے نشوونما کے ہارمون (گروتھ ہارمون = جی ایچ) کی کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ہارمون نہ صرف جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں موجود فیٹ کو پٹھوں میں تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے

خوراک میں موجود چند مخصوص آمائنو ایسڈ جیسے
آر جی نین / Arginine
فینائل آلانین / Phenyl_alanine
اسی نشوونما کے ہارمون یعنی (گروتھ ہارمون = جی ایچ) کی دماغی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم میں موجود فیٹ پٹھوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں

کب موٹاپا کا علاج کرنا چاہیے؟
جب کسی بالغ شخص کا وزن اس کے آئیڈیل وزن سے تقریباً 10 — کلوگرام زیادہ ہو جائے تو علمِ طب کے مطابق اسے موٹا کہا جاتا ہے، یعنی وہ موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہے

طبی لحاظ سے کسی انسان کا آئیڈیل وزن کیسے پیمائش کیا جاتا ہے؟
آئیڈیل وزن کی پیمائش کا سب سے آسان، بہتر اور قابلِ اعتماد طریقہ باڈی ماس انڈکس کہلاتا ہے، جسے بعض ڈاکٹرز کیٹلٹ انڈکس بھی کہتے ہیں
باڈی ماس انڈکس میں
وزن کی پیمائش کلوگرام میں کی جاتی ہے
قد کی پیمائش میٹر میں کی جاتی ہے

باڈی ماس انڈکس کیا ہے اور موٹاپے کے گریڈز کیسے معلوم کریں؟
اگر کسی بالغ شخص کا وزن 75 کلوگرام ہو اور اس کا قد 1.80 میٹر ہو تو اس شخص کا باڈی ماس انڈکس 23.15 بنتا ہے۔ اسے گریڈ زیرو کہا جاتا ہے، جو نارمل باڈی ماس انڈکس ہے۔ اسی طرح آپ بھی اپنے وزن کے بارے میں حساب لگا سکتے ہیں

باڈی ماس انڈکس کے گریڈز
گریڈ 1
پچیس تا تیس باڈی ماس انڈکس — وزن کی زیادتی کی نشاندہی کرتا ہے
گریڈ 2
تیس تا چالیس باڈی ماس انڈکس — موٹاپے کے مرض کو ظاہر کرتا ہے
گریڈ 3
چالیس سے اوپر باڈی ماس انڈکس — شدید موٹاپے کو ظاہر کرتا ہے

موٹاپے کے صحت پر خطرناک اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے امراض
موٹاپا بظاہر کسی ایک بیماری میں شامل نہیں ہوتا، مگر یہ کئی سنگین امراض کا دروازہ کھول دیتا ہے، جیسے کہ
دل کے امراض، خصوصاً خون کا دباؤ یعنی بلڈ پریشر
معدے کے امراض، جیسے السر یا بدہضمی
مردوں میں موٹاپے کے باعث ذیابیطس اور نامردی
عورتوں میں موٹاپے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے امراض، جیسے بانجھ پن اور جوڑوں کا درد
موٹاپے کی وجہ سے تھائی رائڈ غدود کی خرابی، جس کے نتیجے میں گھیگھا وغیرہ پیدا ہو سکتا ہے

سائنسی تحقیق کے مطابق موٹاپے کی بنیادی وجوہات
سائنسی تحقیق کے مطابق موٹاپے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں
پہلی وجہ
موٹاپا بعض اوقات وارثتی — (ہیرڈیٹری) طور پر بھی منتقل ہوتا ہے، یعنی یہ خاندانی طور پر نسل در نسل چلتا ہے
دوسری وجہ
موٹاپے کی ایک بڑی وجہ دماغ سے متعلق بیماری یعنی کھانے کی خرابی (ایٹنگ ڈس آرڈرز) ہے، جس میں انسان کھانے پر کنٹرول کھو بیٹھتا ہے
تیسری وجہ
انسانی جسم میں معدنی عناصر اور ہارمونز کے درمیان توازن کا فقدان بھی موٹاپے کا سبب بنتا ہے

موٹاپے کی طبی مثالیں اور دیگر اہم اسباب (سائنس کی روشنی میں)
کوشنگ کی بیماری / Cushing’s disease
اس مرض میں انسانی جسم ضرورت سے زیادہ سٹیرائیڈ ہارمون پیدا کرتا ہے، جس سے موٹاپا بڑھ جاتا ہے
اسی طرح شوگر (ذیابیطس) کی بیماری میں معدنی عناصر زنک، سیلینم اور انسولین ہارمون کا آپس میں توازن برقرار نہیں رہتا، جو موٹاپے کا باعث بنتا ہے
دیگر وجوہات
زیادہ کھانا، خصوصاً چکنائی والی غذاؤں کا بکثرت استعمال
پیدل چلنے یا ورزش نہ کرنے کی وجہ سے چھوٹی آنت کو تازہ ہوا نہ پہنچنا
خاندانی اثرات
بغیر نالی کے غدود (اینڈوکرائن گلینڈز) کی خرابی
اور دواؤں کا حد سے زیادہ استعمال
یہ تمام عوامل مل کر موٹاپے کے مرض کو جنم دیتے ہیں۔

مطب میں موٹاپے پر تحقیق (طبی نقطۂ نظر)
بطورِ معالج میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ تقریباً 95 فیصد پاکستانی افراد چربی کے نام سے تو واقف ہوتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ چربی دراصل کیا ہے، اس کے جسم میں کیا افعال ہیں، اس کے نقصانات کیا ہو سکتے ہیں اور یہ کن طبی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔

جب موٹاپے کے علاج کی بات آتی ہے تو سائنسی اور طبی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر ہر عام فرد، غیر مستند نسخے، ٹی وی پروگرامز، گھریلو ٹوٹکے، اور مختلف ہربل، یونانی اور انگریزی طریقۂ علاج بلا تحقیق پیش کیے جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شخص خود کو موٹاپے کا ماہر اور اس کے علاج کا حتمی اتھارٹی سمجھنے لگتا ہے، جبکہ مستند اور تجربہ کار معالجین کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر موٹاپے کے علاج کے نام پر بڑے بڑے اشتہارات اور غیر سائنسی دعوے عام ہیں، جہاں مختلف چورن، گولیاں اور ٹیبلیٹس فروخت کر کے مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم ان مصنوعات کی افادیت، حفاظت اور طویل مدتی نتائج کے بارے میں کوئی مستند طبی ثبوت موجود نہیں ہوتے۔

طبی اصولوں کے مطابق موٹاپا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کا علاج درست تشخیص، مستند تحقیق اور ماہر معالج کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے اس مرض کے علاج میں غیر مستند دعوؤں کے بجائے سائنسی اور طبی بنیادوں پر قائم طریقۂ علاج کو اختیار کرنا ہی دانش مندی ہے۔

سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ چربی کیا چیز ہے؟ اس کی اقسام، افعال اور نقصانات کیا ہیں؟
چربی یا چکنائی (Fats)
چربی یا چکنائی کو جدید طب میں فیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی جسم کا ایک نہایت اہم جز ہے اور متوازن مقدار میں جسم کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے

چربی کے افعال
چکنائی انسانی جسم کو حرارت مہیا کرتی ہے
یہ جسم کو توانائی (طاقت) فراہم کرنے کے لیے بہترین غذاؤں میں شمار ہوتی ہے
جسم کو چکنا رکھنے اور ہڈیوں کی مضبوطی میں خاص طور پر مفید ہے

چربی اور توانائی کا تعلق
اگر جسم میں شکر (شوگر) کی مقدار مناسب نہ ہو تو چکنائی صحیح طرح سے جل (آکسیڈیشن) نہیں پاتی، بلکہ صرف سلگتی رہتی ہے
اس سلگنے کے نتیجے میں انسان کو تھکن، سستی اور کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے

جگر اور لبلبہ کا کردار
چکنائی کو محفوظ اور استعمال کے قابل بنانے کے لیے جگر (لیور) اور لبلبہ اہم کردار ادا کرتے ہیں
لبلبہ دراصل ایک قسم کا غدود (گلینڈز) ہے جو تلی کے ساتھ گردن کی مانند جڑا ہوتا ہے۔ اس کی شکل کتے کی زبان سے مشابہ ہوتی ہے
لمبائی تقریباً 0.5 انچ
چوڑائی تقریباً 1.25 انچ
وزن تقریباً 1 سے 3 چھٹانک ہوتا ہے
اس غدود سے ایک خاص کھاری رطوبت خارج ہوتی ہے جو نشاستہ اور چکنائی کو ہضم کر کے جسم کا حصہ بناتی ہے

نقصان کی صورت میں اثرات
اگر جگر یا لبلبہ کے افعال میں خرابی پیدا ہو جائے تو چکنائی صحیح طرح ہضم نہیں ہو پاتی
جس کے نتیجے میں کمزوری، جسمانی درد اور تھکن جیسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں
یہی وجہ ہے کہ طب کے مطابق چکنائی کو نہ مکمل طور پر ترک کرنا درست ہے اور نہ ہی اس کا بے جا استعمال—بلکہ اعتدال ہی صحت کی بنیاد ہے

چکنائی کی اقسام
چکنائی کی اقسام بے شمار ہوتی ہیں، مگر جدید طب نے ان سب کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا ہے
1. نباتات سے ملنے والی چکنائی
2. حیوانات سے ملنے والی چکنائی

نباتات سے ملنے والی چکنائی
نباتات سے حاصل ہونے والی چکنائی ہر طرح کے تیل اور بیجوں میں پائی جاتی ہے، جیسے
تل، سرسوں، ریشوں، سورج مکھی، مونگ پھلی، السی وغیرہ
اسی طرح مختلف میوہ جات میں بھی نباتاتی چکنائی پائی جاتی ہے، مثلاً
ناریل، بادام، اخروٹ، کاجو، پستہ، چرونجی اور چلغوزہ وغیرہ

حیوانات سے ملنے والی چکنائی
حیوانات سے حاصل ہونے والی چکنائی عموماً دودھ اور دودھ سے تیار شدہ غذاؤں میں پائی جاتی ہے
بکری کے دودھ سے تیار شدہ غذائیں اول نمبر پر شمار کی جاتی ہیں
گائے کے دودھ سے تیار شدہ غذائیں دوئم نمبر پر آتی ہیں
یہ تقسیم طب کے مطابق چکنائی کی نوعیت اور جسم پر اس کے اثرات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

نوٹ
خوراک میں موجود چکنائی کو درست طور پر استعمال میں لانے کے لیے آیوڈین کا ہونا ضروری ہے، ورنہ تھائی رائڈ غدود (تھائی رائڈ کلینڈ) خراب ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گھیگھا گلے کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اطباء اکرام کا طبی راز اور موٹاپا کا قدرتی علاج
اگر چھوٹی آنت ہمیشہ تندرست رہے تو وزن نہیں بڑھے گا، اور یہ آنت ادویات سے کبھی بھی مکمل طور پر تندرست نہیں ہو سکتی، اگرچہ ادویات سے وقتی طور پر وزن کم ہو سکتا ہے
چھوٹی آنت کو ہمیشہ تندرست رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کھلی، تازہ اور صاف ہوا میں 40 تا 60 منٹ تک پیدل چل کر سانس لی جائے
اس طریقے سے نہ صرف وزن بڑھنے سے محفوظ رہا جا سکتا ہے بلکہ اگر پہلے ہی وزن بڑھ چکا ہو تو اس کا قدرتی علاج بھی ممکن ہے، جس کی تفصیل نیچے بیان کی جائے گی، ان شاء اللہ

خوراک کو آہستہ آہستہ کم کریں تاکہ جسم عادت ڈال سکے
کھانے کو اچھی طرح چبائیں یہاں تک کہ منہ میں پانی پیدا ہو جائے
غذا میں بغیر آگ کے پکی ہوئی چیزیں زیادہ شامل کریں اور عام خوراک میں چوکر سمیت روٹی، ابلی سبزی اور سلاد استعمال کریں
پانی کا استعمال زیادہ کریں، خاص طور پر صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی میں شہد ملا کر، جیسا کہ سنت نبوی ﷺ کے مطابق ہے، اور کبھی کبھار عصر کے وقت بھی لے سکتے ہیں، ان شاء اللہ آرام اور بہتری محسوس ہوگی۔
کھانے کے بعد پیشاب ضرور کریں تاکہ جسم سے زائد مادے خارج ہوں

اب طبی ادویات کی بات کریں تو فقیر کہے گا کہ ان ہربل ادویات سے بلکل وزن کم کیا جا سکتا ہے، اور وہ بھی کلو کے حساب سے۔ یہ بات تجربہ شدہ اور درست ہے۔ فقیر نے کئی مریضوں کے موٹاپے کا علاج کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر وزن میں کمی دیکھی ہے، اور وہ بھی صرف ہربل اجزاء کے استعمال سے
نتائج اکثر مہینوں یا سالوں میں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں، ان شاء اللہ

جو شخص اوپر والی ہدایات پر عمل کرنے کے باوجود بھی وزن کم کرنے میں کامیاب نہ ہو، وہ اپنی علامات تفصیل کے ساتھ ہمارے دواخانہ کے واٹس ایپ نمبر پر مسیج کرے یا سیفی دواخانہ کا سفوف مہزل خرید کر چند ہفتوں تک استعمال کرے، ان شاءاللہ حیرت انگیز طور پر وزن کم ہو گا

“وزن کم کرنے کا مکمل پیکج — سفوف مہزل”
سفوف مہزل (3 ڈبیاں) — قیمت: 3510 روپے
ڈیلیوری چارجز: 370 روپے
کل رقم: 3880 روپے ادا کرنی ہوگی
دنوں میں وزن کم کریں، پیٹ کی چربی گھٹائیں اور جسم کو سمارٹ بنائیں
Lose weight in days, reduce belly fat, and get a smart body

فوائد: سفوف مہزل (حکیم سہیل والا)
بڑھے ہوئے پیٹ کو چند دنوں میں کم کر دیتا ہے
موٹاپا کی وجہ — نشوونما کا ہارمون (گروتھ ہارمون) کی کمی کو پورا کر کے چربی / فیٹ کو پٹھوں میں تبدیل کرتا ہے، اور باقی چربی چاہے جلد کے نیچے ہو یا اندرونی اعضاء کے گرد، اسے تحلیل کر کے پھولا ہوا، وزنی اور بے ڈھول جسم کو دنوں میں سمارٹ بناتا ہے

تیار شدہ دوا آرڈر کرنے کے لیے فارم پر کریں


    Leave a Comment

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    Scroll to Top